9 نومبر 2024 - 07:14
امریکہ کا قطر سے حماس کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ / حماس نے قطر کی جانب سے اس قسم کے کسی مطالبے کی تردید کی ہے

حماس کی جانب سے جنگ بندی کی حالیہ امریکی تجاویز مسترد کیے جانے کے بعد امریکہ نے قطر سے کہا ہے کہ فلسطینی مقاومتی تنظیم کی دوحہ میں موجودگی واشنگٹن کے لئے مزید قابل قبول نہیں ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، امریکی عہدیدار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کئی امریکہ کے مجوزہ معاہدوں کو مسترد کرنے کے بعد امریکہ کے کسی بھی پارٹنر ملک کو اس کے رہنماؤں کا خیرمقدم نہیں کرنا چاہیے۔ ہفتوں پہلے یرغمالیوں کی رہائی کا ایک اور امریکی مجوزہ معاہدہ مسترد ہونے کے بعد ہم نے قطر کو یہ واضح کر دیا ہے۔

عہدیدار نے مزید بتایا کہ تقریباً دس دن پہلے قطر نے حماس کے رہنماؤں سے مطالبہ کیا تھا اور واشنگٹن اس حوالے سے قطر کے ساتھ رابطے میں ہے کہ حماس کے سیاسی دفتر کو بند کیا جائے اور یہ کہ حماس کا سیاسی دفتر بند کرنے کا وقت اب آ گیا ہے۔

دوسری جانب حماس کے تین عہدیداروں نے قطر کی جانب سے کسی بھی قسم کے مطالبے کی تردید کی ہے۔

قطر نے امریکہ اور مصر کے ساتھ مل کر جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

حماس کی جانب سے کم مدت کے لیے جنگ بندی کی تجویز مسترد کیے جانے کے بعد اکتوبر کے وسط میں دوحہ میں ہونے والے مذاکرات بغیر کسی کامیابی کے ختم ہو گئے تھے۔

گذشتہ سال ایک اعلٰی امریکی عہدیدار نے کہا تھا کہ قطر نے واشنگٹن کو بتایا ہے کہ غزہ جنگ کے خاتمے کے بعد حماس کی ملک میں موجودگی کے حوالے سے دوبارہ غور کریں گے۔

اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے قطر اور خطے میں دیگر ممالک کے رہنماؤں سے کہا تھا کہ 7 اکتوبر کے حملے کے بعد حماس کے ساتھ ’معمول کے مطابق‘ معاملات نہیں چل سکتے۔

امریکہ کا ایک اہم اتحادی ملک قطر 2012 سے حماس کے سیاسی رہنماؤں کی اپنے ملک میں میزبانی کر رہا ہے جو دراصل امریکہ کے ساتھ معاہدے کا حصہ ہے۔

قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے گذشتہ سال متعدد بار یہ کہا کہ دوحہ میں حماس کا دفتر اس تحریک کے ساتھ مذاکرات اور بات چیت کے لیے قائم کیا گیا ہے اور جب تک یہ فائدہ مند ثابت ہو گا تب تک قطر میں حماس کے دفتر کو کام کرنے کی اجازت ہو گی۔

۔۔۔۔۔۔۔

110